مسلمانوں کی مقدس ایجاد

 

مسلمانوں کی مقدس ایجاد
ٹونٹی الحنفیہ بدعت
آج سے تقریبا  1100 برس پہلے عروس البلاد بغداد شہر میں ایک قیمتی ٹونٹی پائی جاتی تھی
جسے دائیں طرف گھمانے پر گرم اور بائیں طرف گھمانے سے ٹھنڈا پانی نکلتا تھا۔
یہ بات ہمارے نوجوانوں کو پتہ نہیں بلکہ سادہ ٹونٹی کی ایجاد بھی غیر مسلم تھامس کے کھاتے میں ڈالتے ہیں
جس نے 1880 میں ٹونٹی دنیا میں متعارف کروائی,
حالانکہ یہ بات سراسر جھوٹ اور اسلامی سائنس سے چوری شد ایجاد کو اپنے کھاتے میں ڈالنے کی مذموم کوشش کی گئی ہے!
امام ابن جوزی نے المنتظم فی تاریخ الملوک والامم میں لکھا
ابن افلح شاعر سے خلیفہ وقت کسی بات پر ناراض ہوگیا,
تو خلیفہ نے اس کا گھر گرانے کا آرڈر دیا
اور جب ابن افلح کا گھر گرایا گیا, اس میں ایک حمام ظاہر ہوا کہ جس میں ایک ٹونٹی تھی جسے سیدھی طرف گھمانے سے گرم پانی اور بائیں طرف گھمانے سے ٹھنڈا پانی آتا تھا!
ابن افلح نے یہ حمام بیس ہزار سونے کے سکے خرچ کر کے بنایا تھا!
امام ابن جوزی کہتے ہیں اس گھر کو توڑے جانے کے بعد میں دیکھا تھا!
ابن افلح کا انتقال 535ھجری میں ہوا تھا
اسی طرح بدیع الزماں الجزری نے آٹومیٹک پانی والی موٹر ایجاد کی تھی جو کنوؤں سے اور گہرائی سے پانی اٹھاتی تھی!
یعنی کہ جدید دور کی سہولیات میں اصل کردار مسلمانوں کا ہے!
آج گھر گھر الیکٹرک موٹرز ہیں اور ٹونٹی کا استعمال ہے تو یہ مسلمانوں کا دنیا پر احسان ہے!
اگرچہ ہم مسلمانوں کو اس کا علم نہیں ہے اور نوجوان غیروں کے سامنے احساس کمتری کے شکار ہیں!

عربی میں ٹونٹی کو صنبور الحنفیہ یا صرف حنفیہ کہتے ہیں!
اس کی بھی ایک دلچسپ وجہ ہے!

مصر پر برطانیہ کے قبضے کے بعد انیسویں صدی میں برطانوی حکومت نے محکمہ اوقاف کے تحت املاک مساجد و مدارس میں ٹونٹیاں لگانے کا فیصلہ کیا تو مسلمان جو اپنے عظیم ماضی کو بھول چکے تھے اس نئی ایجاد کو مساجد میں لگانے پر متذبدب ہوگئے!
مسلمانوں کے چار عظیم فقہی مذاھب میں سے شافعیہ,مالکیہ, حنبلیہ نے اس نئی چیز کو مساجد میں لگانا بدعت قرار دیا تھا
جبکہ احناف علماء نے دفع مشقت اور جلب تیسیر کی طرف نگاہ کرتے ہوئے اس کے جواز کا فتویٰ دیا
تو اس نسبت سے اس وقت تو اس کو صنبور الحنفیہ کہا جانے لگا پھر آہستہ آہستہ صرف حنفیہ رہ گیا!

Lead Urdu

ایک قول کے مطابق مصر کے حاکم محمد علی الکبیر نے اپنے نام سے مسجد محمد علی تعمیر کروائی تو اس میں ٹونٹیاں لگانے کی بابت فتویٰ طلب کیا تو تینوں مذاہب کے علماء یعنی شافعی,مالکی, حنبلی نے فرمایا کہ اسلاف سے اسکی کوئی دلیل نہیں ملتی لہذا کہ بدعت ہے,لیکن حنفی علماء اکرام نے  فتویٰ دیا کہ اس میں عوام کے لیئے آسانی ہے تو لہذا جائز ہے تب سے اب تک اھل عرب حنفیہ نام سے یاد کرتے ہیں!
ایک روایت یہ بھی ملتی ہے کہ جب ٹونٹیوں کا دور شروع ہوا تو پانی بھر کر لانے والے سقایوں نے سوچا اب ہمارا کام ختم ہوجائے گا
کیونکہ دریا اور کنویں سے پانی لانے سے اجرت ملتی تھی جو ختم ہو جائے گی
تو انہوں نے چاروں مذاہب کے ائمہ سے فتوی طلب کیا کہ یہ نئی چیز ہے جو مساجد میں نصب کی جائے گی اس کو بدعت قرار دیا جائے
تینوں مذاہب کے علماء نے اسکو بدعت  کہا مگر احناف علماء کی باریک بینی نے اسکو نہ صرف جائز بلکہ مستحب قرار دیا کہ اس میں مسلمانوں کے لیئے آسانی ہے
لہذا مستحب ہے تب سے اب تک بلاد عرب میں ٹونٹی کو حنفیہ کہا جاتا ھے!
حنفی علماء اکرام کی باریک بینی کا آج زمانہ معترف ھے ورنہ اس جدید دور میں مسلمان مشکل میں پڑے ہوتے ،،اللہ ہمیں آسانیاں تقسیم کرنے والے لوگوں میں شامل فرمائے۔

بد قسمتی ہماری کہ ہم مسلمانوں کو اپنے تاب ناک روشن ماضی کی خبر نہ تھی اگر وہ کما حقہ جانتے تو ان پر واضح ہوتا کہ ہزار سال پہلے بھی مسلمانوں کے پاس ایسی ٹیکنالوجی موجود تھی لیکن ہم نے اپنی روایات پشت پر ڈالا اور غلامی کی زنجیروں میں جکڑے گئے۔