چھبیس سالہ نادیہ نے نہاتے ہوئے اپنی چھاتی پر عجیب سا ابھار محسوس کیا

 


چھبیس سالہ بی اے کی طالبہ نادیہ نے نہاتے ہوئے محسوس کیا کہ چھاتی میں ایک اُبھار سا بنا ہوا ہے۔ ہاتھ لگانے پر کچھ گُھٹلی جیسا احساس ہوتا تھا۔ لیکن کوئی خاص درد تکلیف وغیرہ نہ تھی۔ اس نے سوچا امی جان سے ڈسکس کروں لیکن کئی ہفتے یونہی بےدھیانی میں یاد نہ رہا بہر حال ایک دن دوبارہ نہاتے ہوئے اس طرف دھیان گیا تو ماں سے اس بارے مشورہ کیا تو،،،  امی جان  نے کہا کوئی درد یا تکلیف ہے تو کسی ڈاکٹر حکیم کو دکھا لیتے ہیں، ساتھ مشورہ دیا کہ زیادہ مسئلہ نہیں لگ رہا تو پیاز باندھ لو اور ساتھ وظیفہ پڑھ لو تو خود ہی گُھل جائے گی۔ چند ہفتے وظیفہ پڑھا، اور پیاز بھی باندھا اور ساتھ ساتھ زیتون کے تیل سے ہلکے ہاتھ مالش بھی کی۔ گویا نازیہ نے نفسیاتی طور پر اپنے آپ کو یقین دلا دیا کہ ٹوٹکوں سے ابھار کا سائز کچھ کم ہو گیا ہے۔ وہ مطمئن ہو گئی۔ ابھار اپنی جگہ موجود رہا۔ خاموش۔ کسی تکلیف یا درد کے بغیر۔ جیسے طوفان سے پہلے سمندر ہوتا ہے۔

چھے مہینے ایسے ہی گزر گئے۔ نادیہ کو بھول گیا کہ ایک چھاتی میں ابھار ہے۔ اب کے نادیہ کو عجب سا درد دائیں بازو میں اٹھا، جیسے اس کی ہڈی میں کوئی سوراخ سا کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔ درد کی دوا لی چند دن، اور درد کو آرام آ گیا۔ لیکن دوا چھوڑتے ہی درد نے پھر زور پکڑا۔ آخرکار قریبی ڈاکٹر سے مشورہ ہوا۔ اس نے کہا جوان لڑکی ہے اسے کیا ہونا ہے۔ کیلشیئم اور وٹامن ڈی تجویز کیا، ساتھ ایک سٹرونگ سا پین کِلر انجیکشن ٹھوک ڈالا  ساتھ گولیاں دے کر چلتا کیا۔ پھر سے عارضی آرام آ گیا۔ لیکن دوا کا کورس ختم ہوتے ہی پھر وہی تنگی شروع۔۔۔
Leadurdu.blogspot.com
اب نادیہ کو پریشانی ہوئی کہ یہ قاتل درد جان کیوں نہیں چھوڑتا میری۔ اس نے اپنی ڈاکٹر سہیلی کو کہہ کر سرکاری ہسپتال سے ایکسرے کروالیا۔ ایکسرے کروا کے ہڈی والے ڈاکٹر کے پاس چلی گئی۔ اس نے ایکسرے دیکھ کر کہا کہ اس میں کچھ گڑبڑ لگ رہی ہے، آپ اس کو ذرا کینسر آوٹ ڈور میں دکھا کر آئیں۔ اور یوں میری نادیہ سے پہلی ملاقات کا بندوبست ہوا۔۔۔۔

نادیہ نے مجھ کو ایکسرے پکڑاتے ہوئے کہا کہ اسے بازو کی ہڈی میں شدید درد ہے۔ میں نے ایکسرے دیکھتے ہی ہڈی کا پوچھنے کی بجائے اس سے پوچھا کیا آپ کو جسم میں کہیں کوئی گِلٹی محسوس ہوتی ہے۔۔جس کے جواب میں اس نے کہا کہ ہاں بس میری چھاتی میں ابھار سا تھا لیکن وہ مالش کرنے سے بہتر ہو گیا تھا، لیکن “تھوڑا سا” ابھی بھی ہے۔ وہ “تھوڑا سا” ابھار چیک کرتے ہی الارم بجنے لگے۔ میں نے نازیہ کو بائیاپسی، ہڈیوں کا اسکین اور سی ٹی اسکین لکھ کر دیے۔ رپورٹ میں چوتھی اسٹیج کا انتہائی اگریسیو بریسٹ کینسر تھا، جس کی جڑیں ہڈیوں میں ہی نہیں بلکہ جگر، پھیپھڑوں اور ایڈرینل گلینڈ میں بھی پہنچ چکی تھیں۔۔۔۔

نادیہ کے علاج کا دورانیہ لگ بھگ اٹھارہ ماہ کا تھا۔ زندگی کے آخری چار ماہ اس نے بہت تکلیف میں گزارے۔ بستر پر معذوری کے عالم میں وہ کبھی کبھار اپنے دل کی باتیں کیاکرتی تھی۔ وہ شادی کرنا چاہتی تھی۔ ڈگری مکمل کرنا چاہتی تھی۔ ماں بننا چاہتی تھی۔ کچھ اور جینا چاہتی تھی۔ لیکن مقدر کا فیصلہ کچھ اور ہی تھا۔۔۔ہمارے ارد گرد بہت سی نادیہ موجود ہیں کیونکہ ہر نو میں سے ایک خاتون اپنی زندگی میں اس بیماری کا شکار ہوتی ہے۔ خواتین کو بتانے اور سمجھانے کی ضرورت ہے کہ چھاتی میں تبدیلیاں محسوس ہوں تو کسی ڈاکٹر سے مشورے میں دیر نہ کریں۔ پہلی سٹیجز پر اگر ہم اس بیماری کو پکڑ لیں تو اللہ کی مہربانی سے اسے جڑ سے اکھاڑنے کے اچھے چانسز ہوتے ہیں۔ اگر آپ خاتون ہیں اور تصویر میں دکھائی گئی کوئی علامات آپ میں ہیں تو فوراً کسی ڈھنگ کے ڈاکٹر سے معائنہ کروائیں۔ اگر آپ مرد ہیں تو اپنی خواتین کو آگہی دیں کہ جھجک، اور خواہ مخواہ کی شرم کو زندگی اور صحت سے قیمتی نہ جانیں۔