مٹی کی زندگی

 مٹی کی زندگی



مٹی کی زندگی۔
کوزہ گر مَٹّی کو پانی سے گوندھ کر کُچھ بنا رہا تھا، کہ اُس کی گھر والی نے پاس آ کر پُوچھا، کیا کر رہے ہو؟
کمہار بولا حُقَّہ بنا رہا ہُوں، آج کل بہت بِک رہا ہے، کمائی اچھی خاصی ہو جاتی ہے.
اس کی بیوی نے جواب دیا کہ زِندگی کا مقصد صِرف پیسے کمانا ہی تَو نہیں، کُچھ اور بھی ہے، تُم میری بات مانو اور آج صُراحی یا گھڑا بناؤ،  گرمیاں ہیں وہ بھی خُوب بِکے گا اور ساتھ ساتھ لوگوں کی پیاس بُجھانے کے کام بھی آئے گا
کوزہ گر خاموش ہوا کچھ دیر کُچھ سوچتا رہا اور پھر مَٹّی کو نئے رُوپ میں ڈھالنا شروع کر دیا، تَو اچانک مَاٹی نے پُوچھا، یہ کیا کر رہے ہو تم نے میرا رُوپ بدل دیا، آخر کیوں؟
کوزہ گر نے جواب دیا، میری سوچ بدل گئی میں پہلے تُمہارے پَیٹ میں آگ بھر رہا تھا، اب پانی بھروں گا، اور مَخلُوقِ خُدا تجھ سے نفع حاصل کرے گی.
ماٹی نے کہا بولی، تُمہاری تو فقط سوچ بدلی ہے میری تو زِندگی بدل گئی ھے، مَیں تکلیف سے نِکل کر آسائش میں آگئی ہوں،