تحریر طوفانِ نوح

 


طوفانِ نوح
حضرت نوح ؑ نے اپنی قوم سے کہا تم اللہ کی بندگی کرو تمہارے مال اور اولاد میں کثرت ہو گی قحط سالی ختم ہو گی ہمیشہ بارشیں برسیں گی تمہارے باغات میں میوے بھی کثرت سے ہوں گے تم اللہ کریم پر اعتقاد رکھو خدا کا شکر ادا کرو اللہ تعالیٰ نے تمہارے واسطے کیسے مضبوط آسمان بنائے سورج چاند ستارے سب کچھ تمہاری ہی خاطر پیدا فرمائے حضرت نوح ؑ نے بڑی نرمی سے خدا کا پیغام لوگوں تک پہنچایا لیکن لوگوں نے ان کو جھٹلایا اور ان کی بات کو ماننے سے انکار کیا جو آدمی ان بدبختوں کا موت کے قریب ہوتا تو وہ پچھلوں کو وصیت کرتا کہ خبردار نوح ؑ کی بات نہ ماننا اور اپنے باپ دادوں کا طریقہ نہ چھوڑنا یہ بڈھا دیوانہ ہو گیا ہے ہماری عمریں گزر گئی ہیں یہ جھوٹے وعدوں سے ڈراتا ہے اس کا کوئی وعدہ سچا نہیں ہوا حضرت نوح ؑ کی حقارت کے در پے چھوٹے بچوں کو پیچھے بھیج دیتے جو ہنسی مزاق کرتے وہ بد بخت پتھروں سے اس قدر مارتے کہ آپ کے بدن مبارک چہرہ مبارک سے خون بہتا لیکن حضرت نوح ؑ کو پرودگار نے اس قدر حلم اور بردباری عطا فرمائی تھی کہ باوجود اتنے ظلم کے پھر بھی اللہ کے حضور دعا کرتے کہ یارب میری قوم کو بخش دے یہ مجھے نبی جان کے بے ادبی نہیں کرتے بلکہ یہ جاہل اور نادان ہیں پھر بھی اس قوم نے نہ مانا اور کہنے لگے کہ تیرے تابعداروں میں کوئی مالدار نظر نہیں آتا بلکہ جو ہم میں زلیل اور حقیر ہیں ظاہر میں وہ تیرے تابعدار ہیں اور ہم اسے تمہارے لیے اپنے اوپر کوئی بڑائی تصور نہیں کرتے بلکہ ہم تجھے جھوٹا گمان کرتے ہیں جب قوم کی ہدایت سے حضرت نوح ؑ بالکل مایوس ہوگئے ہٹ دھرمی دشمنی عناد جب زیادہ ہو گئی جبکہ نوح ؑ لوگوں کے اسلام لانے میں بالکل ناامید ہو گئے تو اللہ سے فریاد کرنا شروع کر دی عرض کی اے میرے رب میں اپنی قوم کو دن رات سمجھاتا رہا لیکن وہ میری نصیحت اور تبلیغ سے دُور بھاگنے لگے جیسا کہ ارشاد ہے۔کہا نوح ؑ نے اے میرے رب بے شک میں بلاتا رہا قوم اپنی کو رات اور دن پھر بھی میرے بلانے سے اور زیادہ بھاگنے لگے اور اپنے کانوں میں انگلیاں دینے لگے اور اپنے منہ پر کپڑا ڈالنے لگے ضد اور غرور کیا میں نے ان کو بلایا برملا پھر میں نے ان کو کھول کر کہا اور چھپ کر بھی کہا میں نے یہ بھی کہا کہ اپنے رب سے گناہ بخشواؤ وہ بخشنے والا ہے۔حضرت نوح ؑ نہایت تنگ اور مایوس ہوگئے جب دل ملول اور پریشان رہنے لگے تو پروردگار عالم کا ارشاد ہوا۔اور نوح ؑ پر وحی کی گئی کہ جو لوگ ایمان لے آئے ہیں وہ لے آئے اب ان میں سے کوئی بھی ایمان لانے والا نہیں پس ان کی حرکات پر غم نہ کر۔قوم نوح کو گمراہی پر ثابت قدم رکھنے میں ابلیس کی مکاری بھری چالیں شامل حال تھیں حضرت عباس ؓ نے فرمایا کہ حضرت آدم ؑ کے چالیس بچے تھے جوڑا جوڑا جن میں ہابیل قابیل صالح عبدالرحمن اور شیت ؑ جن کو ہبیہ اللہ بھی کہتے ہیں تما م بھائیوں نے سرداری ان کو دی تھی ان کی اولاد میں چار بزرگ تھے۔سواع۔یغوث۔یعوق۔نسر۔ان اولاد آدم ؑ میں یہ نیک سلوک دیندار ولی اللہ تھے بہت لوگ ان کے معتقد تھے جب یہ فوت ہو گئے لوگ مجاور بن کر ان کی قبر پر بیٹھ گئے رونا پیٹنا شروع کیا غم سے نڈھال ان لوگوں کے پاس ابلیس انسانی شکل میں آیا اور کہا کہ ان بزرگوں کی یادگار قائم کرو جو ہر وقت تمہارے سامنے رہے سب لوگوں نے اس کی رائے کو پسند کیا تو ابلیس نے ان بزرگوں کا مجسمہ بنا کر ان کے سامنے رکھ دیاجس کو دیکھ کر یہ لوگ اُن کو یاد کرتے پھر ابلیس نے کہا کہ تمہیں دُور سے آنا پڑتا ہے اس لیے میں تم کو بہت سے مجسمے بنا دیتا ہوں ان کو تم اپنے گھروں میں رکھویہ بات لوگوں کو پسند آئی اس چال سے ابلیس نے ان لوگوں کو مجسمے دیکر پوجا پاٹ پر لگا کر شرک جیسی گمراہی میں مبتلا کر رکھا۔پھر نوح ؑ نے بھی بددُعا کرنی شروع کردی جسے قبول کرتے ہوئے اللہ نے نوح ؑ کو کشتی بنانے کا حکم دیا(ترجمہ)اے نوح ؑ تو ہماری حفاظت میں ہماری وحی کے مطابق کشتی تیار کر اور اب مجھ سے ان کے متعلق کچھ نہ کہنا جو ظالم ہیں بلا شبہ یہ غرق ہونے والے ہیں۔ حضرت نوح ؑ نے ایک درخت بویا جو سو سال تک بڑھتا رہا پھر اس کو کاٹ کر تختے بنائے جس سے کشتی تیار کرنا شروع کی تو یہ منکر لوگ مزاق اُڑاتے کہ اس خشکی میں کشتی کی کیا ضرورت ہے حضرت نوح ؑ نے جواب دیا عنقریب تم دیکھو گے۔ابن ابی حاتم کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ نوح ؑ نے جب تمام مویشی کشتی میں سوار کر دئیے تو لوگوں نے کہا کہ شیر کی موجودگی میں مویشی آرام کیسے کریں گے تو اللہ نے شیر پر بخار طاری کر دیا جس وجہ سے وہ بے ہوش رہا باقی مویشی اطمینان میں رہے اس سے پہلے زمین میں بخار کی بیماری نہیں تھی بخار کا دنیا میں پہلا شکارہونے والا اسی کشتی میں سوار شیر تھاکشتی میں نوح ؑ کے تین بیٹے ان کی بیویاں لونڈیاں غلام اور اسی آدمی سب سوار ہو گئے تو اللہ نے زمین کوپانی اُگلنے اور بادلوں کو برسانے کا حکم دیاپھر کشتی پانی پرانہیں لے کر پہاڑوں کی طرف جاتی تھی اللہ تعالیٰ نے اس کشتی کا منہ مکہ مکرمہ کی طرف کر دیا جہاں وہ چالیس دن تک بیت اللہ کا طواف کرتی رہی پھر اللہ نے زمین آسمان کو حکم دیا (ترجمہ) اور فرمایا گیا اے زمین تو اپنا پانی نگل جا اور اے آسمان بس کر تھم جا پھر پانی سکھا دیا اور کام پورا کر دیا حضرت قتادہؒ فرماتے ہیں کشتی نوح ؑمیں تمام مسلمان لوگ رجب کی دسویں کو سوار ہوئے کشتی مشرق و مغرب میں پھرتی رہی چھ ماہ تک جودی پہاڑ تک ٹھہری رہی پھر دس محرم یوم عاشورہ کے دن لوگ اس سے اترے جنہوں نے روزہ رکھا ہوا تھا ابن جریر ؒ نے حضرت عباس ؓ سے زکر کیا کہ حواریوں نے حضرت عیسیٰ ؑ سے درخواست کی کہ خدا سے دُعا کرکے کوئی ایسا مردہ زندہ فرمائیں جس نے کشتی نوحؑ دیکھی ہو جس سے ہمیں اس بارے معلومات ملے پھر حضرت عیسیٰ ؑ نے اپنا عصاء زمین کے ٹیلے پر مار کر کہا اللہ کے حکم سے اُٹھ کھڑا ہو اسی وقت ایک بوڑھا آدمی اپنے سر سے مٹی جھاڑتا ہوا اُٹھ کھڑا ہوا آپ ؑ نے اس سے فرمایا تو نے کشتی نوحؑ دیکھی تھی اس نے جواب دیا جی ہاں آپؑ نے فرمایا اس کے بارے میں بیان کر اس نے کہا وہ بارہ سو ہاتھ لمبی چھ سو ہاتھ چوڑی تین درجوں میں تھی ایک میں چوپائے دوسرے میں انسان تیسرے میں پرندے تھے جب جانوروں کا گوبر پھیلا تو اللہ تعالیٰ نے نوحؑ کو فرمایا ہاتھی کی دُم کو ہلاؤ آپ ؑ کے ہلانے سے نر اور مادہ دو خنزیر نکل آئے جو کشتی کی میل کچیل کھانے لگے خنزیر سے چوہے پیدا ہو گئے پھر جب چوہوں نے کشتی کو کاٹنا شروع کیا تو حکم ہوا کہ شیر کی پیشانی پر ہاتھ لگاؤ اس سے بلی کا جوڑا پیدا ہوا جنہوں نے چوہوں کا بھگایا پھر عیسیٰ ؑ نے فرمایا نوح ؑ کو شہروں کے غرق ہونے کا علم کیسے ہوا کہا نوح ؑنے کوے کو بھیجا شہروں کی خبر لاؤ وہ لاش پر بیٹھ گیا دیر تک نہ آیا اس لیے نوح ؑ نے کوے کو ہمیشہ ڈرتے رہنے کی بددُعا فرمائی پھر حضرت نوح ؑ نے ایک کبوتر کو روانہ کیا جو اپنی چونچ میں زیتون کے درخت کا پتہ اور اپنے پنجوں میں خشک مٹی لایا اس سے معلوم ہوا نوح ؑ نے کبوتر کی گردن میں حصرہ کا طوق ڈال دیا اسی لیے وہ امن کے ساتھ ہے کبوتر کے واسطے اُنس کی دُعا فرمائی اس لیے وہ گھروں میں رہتا ہے پھر حضرت عیسیٰ ؑ نے فرمایا اللہ کے حکم سے جیسا تھا ویسا ہوجا اسی وقت وہ مردہ دوبارہ مٹی ہو گیا۔حضرت نوح ؑ کی عمر کے بارے میں مختلف قول درج ہیں ساڑھے نو سو سال تو تبلیغ میں گزارے پوری عمر بعض کے نزدیک پندرہ سو سال بعض کے نزدیک چودہ یا سترہ سو سال بتائی گئی ہے۔

Lead URDU